Zara Thehar Jao
Poet: S. Sadia Amber Jilani By: Syeda sadia Amber Jilani, FaisalAbadKuch Lafzo'n K Kehnay Tak Zara Thehar Jao
Meray Halaat Badalnay Tak Zara Thehar Jao
Hum Apni Zaat Mein Bohat Bikhray Hain Bohat Tootay
Bas Meray Sambhalnay Tak Zara Thehar Jao
Meray Dill K Aangan Mein Udassi Ka Andhayra Hai
Talo-E-Sehar Honay Tak Zara Thehar Jao
Tumharay Saath Chalna Hy Mujhay Bhi Meray Humdam
Meray Qadam Bharrhnay Tak Zara Thehar Jao
Qismat Ki Lakeero'n Say Hum Tumhay Churaa Len Gay
Dast-E-Duaa Uthanay Tak Zara Thehar Jao
Bohat Dushwaar Hai Tumharay Bin Mera Jeena
Meri Yeh Baat Samjhnay Tak Zara Thehar Jao
Phir Shayed K Milnay Ka Na Imkaa'n Rahay Koi
Tum Nazaro'n Me Samonay Tak Zara Thehar Jao
Tum Hasil-E-Jaa'n Ho Tumhi Haraf-E-Duaa Meray
Suno Meray Honay Tak Zara Thehar Jao
Tumhen Tu Lout Jana Hai Chalo Lout Jana Tum
Bas Ye Shaam Dhalnay Tak Zara Thehar Jao
Okat-E-Hijar Bhi Koi Azaab Hain Lekin
Uss K Awaaz Denay Tak Zara Thehar Jao
Itni Ujlat Bhi Kiya Hai Amber Tumhen Bicharrnay Ki
Uss K Lout Aanay Tak Zara Thehar Jao
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






