Zakham
Poet: Hasni Naveed Afridi By: Minhal, KARACHIAj Faragat Pate Hi
Mazi Ka Daftar Khola Hai
Tanhai Me Beth K Apna
Ek Ek Zakhm Tatola Hai
Chun Chuka Ho Jism Rooh Par
Aaie Huwe Kahracho Ko
Ulat Palat K Dhek Liya Hai
Armano Ki Lasho Ko
Kamre Me Rakha Tha Use
Ya Dil M E Khai Dafnaya Tha
Jane Wo Anmol Khazana
Mene Kha Chupaya Tha
Sari Umar Ka Hasil Thi
Wo Khone Wali Cheez Na Thi
Soch Raha Yaad Teri Koi
Gum Hone Wali Cheez Na Thi
Warq Warq Dheka Hai
Apni Gird Alood Kitabo Ko
Jese Koi Be Dari Me
Dhoond Raha Ho Khuwabo Ko
Aqal K Hatho Se Bhi Aksar
Nadani Ho Jati Hai
Bhut Sambhal K Rahne Par Bhi
Cheez Khi Kho Jati Hai
Apne Sare Ghar Walo Ko
Dewana Sa Lagta Ho
Is Kamre Se Us Kamre Me
Khoya Khoya Phirta Ho
Soch Samjh Kar Dunya Ki
Nazro Se Chupa Kar Rakha Tha
Mene To Us Yaad Ko
Apne Liye Bacha Kar Rakha Tha
Kamre Me Rakha Tha Use
Ya Dil Me Kahi Dafnaya Tha
Jane Wo Anmol Khazana
Mene Kha Chupaya Tha
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






