Ye Zaray Jin Ko Khak_E_Rah_E_Manzil Samajhty Hain
Poet: By: Rainy Eyes, Kotri KabirYe Zaray Jin Ko Khak_E_Rah_E_Manzil Samajhty Hain
Zuban_E_Haal Rakhty Hain, Zuban_E_Dil Samajhty Hain
Jisay Sub Log Husun_O_Ishq Ki Manzil Samajhty Hain
Buland Us Se Bhi Hum Apna Muqam_E_Dil Samajhty Hain
Haqeeqat Mein Jo Raz_E_Doori_E_Manzil Samajhty Hain
Unhi Ko Hum Salok_E_Ishq Mein Kamil Samajhty Hain
Hamein Wo Kiya Jafa_E_Khas Ke Qabil Samajhty Hain
Ye Raz_E_Dil Hai, Is Ko Mehraman_E_Dil Samajhty Hain
Issi Aik Jurm Par Aghyar Mein Barpa Qayamat Hai
Ke Hum Bedaar Hain Aur Apna Mustaqbil Samajhty Haina
Nigahon Mein Kuch Aisy Bas Gaye Hain Husun Ke Jalway
Koi Mehfil Ho Lekin Hum Teri Mehfil Samajhty Hain
Koi Maany Na Maany Is Ko Lekin Ye Haqeeqat Hai
Hum Apni Zindagi Mein Ghaib Ko Shamil Samajhty Hain
Ye Narm_O_Natawan Mojein Khudi Ka Raaz Kiya Janen
Qadam Lety Hain Toofan, Azmat_E_Sahil Samajhty Hain
Hakoomat Ke Mazalim Jab Se In Aankhon Ne Dekhy
Jigar Hum Bumbai Ko Koocha_E_Qatil Samajhty Hain
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






