Waqt Bura Ho Ya Acha
Poet: Fayaz Mohammed (Shakir) By: Fayaz Mohammed (Shakir), Mumbai-IndiaPal Mein Tola, Pal Mein Masha Hua
Uff, Na Jane Is Dil Ke Saath Kya Kya Hua
Qadam Dag-magane Lage Jab Zindagi Ki Dhoop Mein
Apne Hi Nazro Ke Saamne Kya Kya Namudar Hua
Bazar-e-Waqt Se Kuch Pal Hansi Ke Kharid Lu
Qeemat Mili Bhi Aisi Ke Khud Se Sharam-sar Hua
Barso’n Baad Bhi Aisa Laga Ke Hum Wahi Khade Hain
Badalte Waqt Ke Saath Hamse Kitna Intezar Hua
Saath Chodh Ke Chaldena Unki Fitrat Na Thi
Na Jaane Mujh Pe Ye Zulm Kyun Baar Baar Hua
Lakeero’n Se Banta Hai Ghar, Lakeero’ Se Bat-ta Hai Ghar
Bikhre Huey Guncho’n Ko Sametna Bhi Ab Dushwar Hua
Waqt Bura Ho Ya Acha, Ek Din Badalta Zarur Hai
Ab Dushmano se Zyada Dosto’n Ka Hum Pe Waar Hua
Drya-e-Shakir Bhi Kuch Kaam Na Aaya Ehl-e-Chaman Ke Liye
Unka Qatra Bahana Bhi Shahido’n Mein Shumar Hua
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






