Tumhin Kis Nay Kaha Pagali
Poet: Zarsh By: Minhal, karachiTumhin Kis Nay Kaha Pagli
Mujhay Tum Yaad Aati Ho
Bohat Khush Faham Ho Tum Bhi
Tumharai Khush Gumani Hai
Meeri Ankhonki Surkhi Main
Tumhari Yaad Ka Matlab
Meeray Shab Bhar Kay Jagnay Main
Tumharay Khwaab Ka Matlab
Yah Ankhien To Hameesha Say Hi
Meri Surkh Rehti Hain
Tumhin Malom Hi Hoga
Is Shahar Ki Faza Kitni Aloda Hai
Tu Yah Sozish,,Ussi Fizza Kay Bayes Hai
Tumhin Kis Nay Kaha Pagli
Ka Main Shab Bhar Nahin Sota
Mujhay Is Nokri Kay Sab Jhameelon Say
Kabhi Fursat Milay To Tab Hai Na
Meeri Baaton Main Larzash Hai
Main Aksar Kho Sa Jata Hon
Tumhin Kis Nay Kaha Pagli
Mohabbat Kay Ilawa Aur Bhi To Dard Hotay Hain
Fikar-E-Muaash,Sukh Ki Tlaash
Aisay Aur Bhi Gham Hain
Aur Tum
Un Sab Ghamon Kay Baad Aati Ho
Tumhin Kis Nay Kaha Pagali
Mujhay Tum Yaad Aati Ho
Yah Dunya Walay Pagal Hain
Zara Si Baat Ko Yah To Afsaana Samjhtay Hain
Mujhay Ab Bhi Yah Pagal Tera Dewana Samjhaty Hain
Tumhin Kis Nay Kaha Pagli
Magar Shyed
Magar Shyed Main Jhhota Hon
Main Reeza Reeza ,Toota Hon
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






