Tumhein Jaana Ijazat Hay
Poet: By: sumera ataria, GUDDUTumhein Jaana Ijazat Hay
Koi Bhi Fesla Kerlo
Hamarey Muntazir Thehro
Ya Humko Alwida Kehdo!
Hamarey Naam Se Mansoob Kerlo Naam Ko Apnay
Ya Apna Naam Dey K Tum Kissi K Meet Ban Jao
Tumhein Janaa Ijazat Hay
Koi Bhi Fesla Kerlo!!
Hamarey Paaon May Tu Waqt Ki Zanjeer Lipti Hai
Buhat Nidhaal Hain Hum Tu Dukhon Ki Aazmayesh Mein
Buhat Mumkin Hai Thak Jao Hamarey Saath Chal Ker Tum
Muhabbat Ki Thakawat Tumko Humse Badgumaan Kerdey
Tu Is Se Qabal, Her Ek Wapsi Ki Rah Kho Jaay
Jo Socha Bhi Nahi Humne Kabhi Wo Kal Ko Ho Jaye...
Tumhein Janaa Ijazat Hay
Koi Bhi Fesla Kerlo!!
Hamara Tumse Wada Hai, Tumhari Yaad Ko Hum Tu
Sadda Dil K Darechay Mein Yonhi Aabad Rakhein Gay
K Dil Tuta Rahy Her Pal Labbon Ko Shaad Rakhain Gay
Tumhein Janaa Ijazat Hai...
Tum Apnay Hosloon Mein Jab Thakawat C Kabhi Paao
Ulajh Jao Masa'yil Mein, Wafa Ko Na Nibha Paao
Kissi Pyarey Se Mukhrray Ki Haseen Aankhon Mein Kho Jao
Ijazat Hay Tumhay Janaa
Ager Is Pal Jo Tum Chahoo
Koi Bhi Fesla Kerlo...
Hamarey Muntazir Tehro
Ya Humko Alwida Kehdoo....!!!
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






