Tum Bhi Ajeeb Larki Hoo
Poet: By: maya khan, wah canttAansoon Ko Peeti Hoo
Zehar Zindagi K Sab
Saath Ley K Jeeti Hoo
Chaandni K Haaley Koo
Subah K Ujjaaley Koo
Roshni K Baadal Main
Jhilmillatey Aanchal Main
Baandh K Youn Rakhti Hoo
Tum Ajjeeb Larki Hoo
Chuup K Aahen Bharti Hoo
Roshni Sey Darrti Hoo
Apney Saareey Sapnoon Koo
Youn Chhupa K Rakhti Hoo
Jaisey Saarey Khuwaaboon Par
Ishq K Azzaaboon Par
Bass Tumhara Hi Haq Hai
Aissey Baatain Karti Hoo
Tum Ajjeeb Larki Hoo
Khuaab Bunti Rehti Hoo
Khuwaaboon K Jharokoon Sey
Mujh Ko Takti Rehti Hoo
Un Ginnat Sawaaloon Sey
Un Kahey Jawaaboon Sey
Bass Ulajhti Reehti Hoo
Khuwaab Daikhti Bhi Hoo
Tuutney Sey Darti Hoo
Tum Ajeeb Larki Hoo
Tum Waffa Ki Baatoon Par
Muskuraati Rehti Hoo
Gehri Gehri Aankhoon Sey
Duurbeen Niggaahoon Sey
Sab Ko Daikha Karti Hoo
Aur Sab Sey Chhup K Phir
Aansoon Ko Peeti Hoo
Jaaney Kaisey Jeeti Hoo
TUM Bhi Ajjeeb Larki Hoo
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص







