Tum Apne Hi FesluN ko
Poet: Zeeshan By: Shanzee, karachiTum Apne Hi Feslun Ko
Apni Hi Kahi Batun Ko
Khud Hi Bhula Deti Ho
Khud Hi Jhutla Deti Ho
Tum Hi Ne Kaha Tha Mujh Say
Milna Na Hoga Ab Say
Tum Mujhe Bhul Jana
Apni Qismat Phir Aazmana
Mujhe Raste Main Na Pehchan Lena
Meri Zindagi Ka Na Phir Imtihan Lena
Waada Karo Tum
Qasam Khao Meri
Tum Waade Qasmen Nibhao Ge
Meri Zindagi Main Na Lot Ke Aayu Ge
Mujhe Yaad Hai Aaj Bhi
Na De Rahe Thay Sath Mere Hawas Bhi
Waada Hai Mera Nahi Pehchanun Ga Is Jag Main
Par Tumhain Bhul Jana Nahi Hai Bas Main
Bas Uthte Hoye Kahi Ek Baat
Ijazat Hu Tu Saath Lejaun Tumhari Yaad
Phir Kuch Arsa Hi Hoya Tha Waada Kiye Hoye
Tumhain Bhul Jane Ka Irdaa Kiye Hoye
Par Aaj Mehfil-E-Shehnaii Main
Dhundh Raha Tha Ek Gusha Tanhaii Main
Be Irada Hi Jo Tumhare Samnay Se Guzar Gaya
Mujhe Ilm Nahi Shayad Tumhara Chehra Badal Gaya
Buhat Talkhi Say Pukar Kar Kaha
Kiya Baat Hai Ali
Ab Tum Hamen Pehchante Bhi Nahi
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






