Tanhai
Poet: Saba By: Saba, multanSamajh Nahin Ata Shuru Kahan Say Karun
Main Zindagi Say Karun Ya Kau Zindagan Say Karun
Mera To Koi Bhi Maqsade Hayat Na Tha
Koi Khushi Na Thi Ya Wajoode Dard Na Tha
Bilawajha Hi Shamo Seher Guzartay Thay
Magar Achanak Bohot Kuch Badl Gya Logo
Main Jee Utha Laga Kay Koi Khwab Dakha Hai
Laga Kay Sat Rangun Ka Ik Dhanak Ankhun Main Phirta Hai
Laga Kay Un Chowi, Narm Si Hawa, Choo Kay Guzri Hai
Main Is Tabdeeliyay Dil Pay Bohot Hairan To Tha Par!
Khushi Ko Kho Danay Kay Dar Say Parashan Bhi Tha
Dosri Taraf Is Khushi Ki Wajha Jan Kar Sakta Bhi Taree Tha
Meray Khuda! Is Sab Kay Pichay Hath Aik Sanfe Nazuk Ka Hai?
Guzaray Bohot Hi Haseen Pal Hum Nain Sath Mil Kay Thay
Phir Achanak Meri Tanhai Bi Mujhay Mana,Nay Lout Ayi Aur!
Us Ka Mazi Bhi Tha Louta Poray Jazbay Say
Main Phir Wapas Usi Bay Wajha Si Sham Kay Sang Tha
Aur Us Ki Hansi Ka Shor Meray Kan Main Tha
Main Wada To Nahin Karta Ky Bhol Jaon Ga Us Ko
Woh Yaad Bhi Nahin Ayy Gi Aisa Bhi Nahin Kahta
Bohot Hi Mohtarm Jazbay Hain Bus Dill Main Hi Rehtay Hain
Main Dhool Mitti Say To Zaroor Bachaon Ga Inko
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






