Suno Larki Abi Tum Ishq Mat Karna
Poet: ahmad faraz By: sohaib butt, lahoreAbhi Tum Ishq Mat Karna
Abhi Guriya Se Khailo Tum
Tumhari Umar Hi Kya Hai
Faqt 21 Baras Ki Ho
Abhi Masoom Bachi Ho
Nahin Maloom Abhi Tum Ko
K Jab Yeh Ishq Hota Hai
To Insaan Kitna Rota Hai
Sitaray Toot Jatay Hain
Saharay Choot Jatay Hain
Abhi Tum Nay Nahin Dekha
K Jab Sathi Bichartay Hain
Tu Kitna Dard Milta Hai
K Har Furqat K Mousam Main
Hazaron Ghum Ubhartay Hain
Hazaron Zakhm Khiltay Hain
Suno Larki
Meri Mano
Parhai Par Tawajo Do
Kitaabon Main Gulabon Ko
Kabhi Bhoolay Say Mat Rakhna
Kitabain Jab Bhi Kholo Gi
Yeh Kaanton Ki Tarhan Dil Main
Chubhain Gay Khoon Bahayein Gay
Tumhain Pehroon Satayein Gay
Kisi Ko Khat Nahin Likhna
Likhai Pakri Jati Hai
Bari Ruswai Hoti Hai
Kisi Ko Phone Mat Karna
Sadayein Dil Dukhati Hain
Woh Awazain Satati Hain
Meri Nazmain Nahin Parhna
Yeh Mehshar Utha Dein Gi
Tumhain Pagal Bana Dein Gi
Suno Larki
Meri Mano
Apni Taqdeer Say Tum
Khul K Mat Larna
Abhi Guriya Se Khailo Tum
Abhi Tum Ishq Mat Karna
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص







