Sirf Tum
Poet: Mahvish Phatyma By: Mahvish Phatyma, KarachiMeray Kowab
Meray Khyal May
Meray Sawal
Meary Jawab May
Meray Khowhis-E-Raqsay Badan May Tum
Meary Ishaq Kay Jaanoono Ki Raftar May
Meri Karwat Badal Badal Tamam Rato May
Meri Tanha Gun-Gunati Soocho May
In Sham Or In Dareecho May
Meary Bhtakay Hoay Lums Kay Khumar May
Meray Bechan Honto Ki Mithas May
Meri Koorbato Ki Thandi Ass May
Tum Basay Hoay Ho Meri Sans May
Meri Rohh Meri Mohbat-E-Kahmoosh May
Han Jidhar Jidhar Han May Jaon Jidhar
May Rahon Tumaray He Hissaar May
My Hon Ab Is Kadar Bechan K
Chon Kehana Jo Na Keh Ski Kai Bar May
Mery Dil Kay Aagun May Ao To
Orr Barso Is Terhan Kay Swanwar Jao May
Ho Tum Is Kadar Maery Liay Motabar
K Tariki-E-Shab May Tumharay Lia Bikhar Joa May
Meri Znidagi Meri Hayat Tum
Meri Jinnay Ki Ek Waja He Tum
Mera Mazi Mera Hall Tum
Meri Bechan Shamo Ka Qarar Tum
Meri Har Nazam Ka Unwan Tum
Meri Har Tarp, Meri Har Adda
May Saiqi-E-Dil ,Tum, Par War Do
Par Kya Karo
Han May Kya Kaaro
Kay Dil Hoa Ya Sooch K Udas Hay
Meri Mahwar-E-Zindagi Ho Tum
Par...Akhir Q
Meri Dastras Say Ho Bahar Tum
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






