Sirf Tum
Poet: Mahvish Phatyma By: Mahvish Phatyma, KarachiMeray Kowab
Meray Khyal May
Meray Sawal
Meary Jawab May
Meray Khowhis-E-Raqsay Badan May Tum
Meary Ishaq Kay Jaanoono Ki Raftar May
Meri Karwat Badal Badal Tamam Rato May
Meri Tanha Gun-Gunati Soocho May
In Sham Or In Dareecho May
Meary Bhtakay Hoay Lums Kay Khumar May
Meray Bechan Honto Ki Mithas May
Meri Koorbato Ki Thandi Ass May
Tum Basay Hoay Ho Meri Sans May
Meri Rohh Meri Mohbat-E-Kahmoosh May
Han Jidhar Jidhar Han May Jaon Jidhar
May Rahon Tumaray He Hissaar May
My Hon Ab Is Kadar Bechan K
Chon Kehana Jo Na Keh Ski Kai Bar May
Mery Dil Kay Aagun May Ao To
Orr Barso Is Terhan Kay Swanwar Jao May
Ho Tum Is Kadar Maery Liay Motabar
K Tariki-E-Shab May Tumharay Lia Bikhar Joa May
Meri Znidagi Meri Hayat Tum
Meri Jinnay Ki Ek Waja He Tum
Mera Mazi Mera Hall Tum
Meri Bechan Shamo Ka Qarar Tum
Meri Har Nazam Ka Unwan Tum
Meri Har Tarp, Meri Har Adda
May Saiqi-E-Dil ,Tum, Par War Do
Par Kya Karo
Han May Kya Kaaro
Kay Dil Hoa Ya Sooch K Udas Hay
Meri Mahwar-E-Zindagi Ho Tum
Par...Akhir Q
Meri Dastras Say Ho Bahar Tum
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






