Shishe Ke Aaine Main
Poet: Akash By: Akash, karachiShishe K Aaine Main Dekhti Hai Woh Khamosh Naazre
Ghunghat Main Chehra Chupaai Hue
Aankhon Main Kajal Sajaye Hue
Chorr K Apna Ghar Aangan
Chali Ayee Dulhan Ek Naye Duniya Bassane
Hogaye Parai Jahan Beeta Apna Bachpan
Aur Jawani Ki Hassen Raahein
Aapna Na Hai Who Sansaar
Jis Main Bana Ni Hai Naahi Kahaani
Mathe Ki Bindiya Kuch Kehti Hai Us Se
Haatho Ki Kangan Khankati Hai
Jaise Kehte Hai Ruk Ja Ree Saakhi
Na Chor Woh Raahein
Jis Me Khela Tera Bachpan
Chorr Ke Apna Ghar Aangan
Chali Ayye Dulhan Ek Naye Duniya Bassane
Laal Jodhe Main Saji Hai Aise Aankhon Main Ek Sapna Leke
Dil Main Jagi Hai Aisi Umang
Khushiyo Se Bhara Hai Woh Naya Jevaan
Jahan Lage Woh Paraye Bhi Apne
Jahan Saathi Ho Pyaara Aur Khushiyo Ka Alam Ho
Phir Bhi Udaas Si Lagti Hai
Us Ki Nazar Keh Jati Hai
Us Ne Ankahi Si Baate
Yaad Dilati Hai Woh Bethe Dil
Woh Khamosh Galiyo Ki Raahein
Phir Bhi Nibhana Hai Woh Reet Purani
Chor K Apna Ghar Aangan
Chali Aai Dulhan Ik Naye Duniya Basane
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






