Sard Raaton Ki Tanhai Main
Poet: UNKNOWN By: Rahi, Hyderabad Sard Raaton Ki Tanhaai Mein..
Hum Teri Yaadon Ke Chirag Jalaye Bethe Hain,
Kabhi To Tum Zindagi Ki Haqeeqt Banoge,
Sochkar Palkon Mein Khwab Sajaye Bethe Hain!
Tumhare Saath Ke Lamhe Har Waqt Sata-Te Hain,
Ab Tumhare Aane Ki Bus Aas Lagaye Bethe Hain,
Aankhon Mein Ashkon Ko Ab Rok Nahi Pate,
Ki Dil Ko Bilal Sambhale Huye Bethe Hain!
Kaash Tum Mere Dard-E-Dil Ko Samajh Paao,
Hum Jo Seene Mein Abhi Tak Dabaye Bethe Hain,
Par Woh Jo Humse Dard Bayaan Nahi Karte,
Rehkar Khamosh Konsa Raaz Chupaye Bethe Hain!
Khushi Bhale Thodi Si Par Dene Ke Liye Shukriya,
Paigam Tere Bheje Huye Seene Se Lagaye Bethe Hain,
Hai Ek Tasveer Bhi Nighahon Mein Teri,
Bus Ab Usiko Mann Ki Murat Banaye Bethe Hain!
Tujhe Yaad Karna Teri Raah Takna Hurdum,
Sab Bhulakar Ab Yeh Ek Naya Kaam Liye Bethe Hain,
Janta Hon Tujhe Paane Ka Anjaam “E-Naaz”,
Phir Bhi Hum Naadan Tumhi Se Dil Lagaye Bethe Hain..!!
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص







