Safar Ki Thakaan, Bimari K Bawjud
Poet: RAZAB By: junaid Ellahi, multanSafar ki Thakaan, Bimari k Bawjud
Main ! Pedal Admi, Swari K Bawjud
Usk Sath Zor ! MashroOt Nahi Hai
Wo ! Mautbar hai, Waqt'Guzaari k Bawjud
Kuch Baten ! Tan'Badan AsoOdgi liye
Kuch Harf Faqa'kash ! Madaari k Bawjud
100 ! Qudarti Libaas, Ara'asta Kiye
Dil ! Barhna hai, Chaar'Deewari k Bawjud
Tashweeshi Nishanat se, DoOr ! Bht DoOr
Asaib'zada Saey ! Shumari k Bawjud
Mujhe Bari Aziz ! Najane Kyu Magar
Ik Zarb ! Waar me, Kaari k Bawjud
Dmagh se Gai ! Kbhi Na Muflisi
Sochon ki, Talakh ! Rez'Gaari k Bawjud
Main ! Jaan De k Bhi, Na'Mautbar Hua
"Nisf" ki Rishta'daar ! "Saari" k Bawjud
Ishq ! Bhaanp le, Zaruryaat e Husan
Nazar ki Aabru ! Khudaari ki Bawjud
Haseen MoOraten ! Na'paeydaar Hen
Daur e Kam'sini, Adakaari k Bawjud
RAZAB ! Kbhi Khula, Na Daftar e Weham
Dil me Bina Qufal, Almaari k Bawjud
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






