Qandeel-E Gham (Sialkot Ka Dukh)
Poet: Ajmal By: Ajmal, W.Yorkshire,EnglandPurnam Hay Meri Aankh Zamanay Ki Chaal Per
Nochay Hein Zalimoun Ne Shaheedoun Ke Baal-O Per
Dherti Meray Wattan Ki Shramsaar Ho Gayee
Nung-E Wattan Ke Zulm Ki Gandi Misaal Per
Be-Doush Maar Dala Na Aah-O Baka Suni
Kya Guzri Ho Gi Donoun Ke Jism-E Nadhaal Per
Ruktay Nahi Hain Ashk-E Rawan Dil Pe Hay Ghubaar
Sadmaat Itnay Guzray Hein Unn Ke Visaal Per
Toota Tha Ung Ung Baddan Tar Tar Thay
Ungint Zakhm Aaye Hein Masoom Gaal Per
Rotee Tou Ho Gi Maan Jo Kitaboun Ko Dekh Ker
Gham Hay Muheet Unn Ka Kayee Mah-O Saal Per
Shamil Hein Unkay Derd Mein Arz-E Wattan Ke Log
Gher Lout Ker Na Aaye Jo, Unn Ke Malaal Per
Qandeel-E Gham Sunati Hay Woh Daastan-E Gham
Ek Chup Si Lug Gayee Hay Dil-E Khasta Haal Per
Allah Muaaf Kerna Mushiyyat Thi Kya Teri ?
Na-Haq Ka Khoon Milta Hay Zalim Ki Dhaal Per
Phirtay Hein Aam Qattel Ke Mujrim Shehar Shehar
Insaaf Likh Liya Hay Darindoun Ne Khaal Per
Tum Fateha Bhi Padhtay Ho Logoun Ko Maar Ker
Hay Hukmraan ! Teri Seyasat Kamaal Per
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






