Phir Se Mohabat Nahi Hotia
Poet: KIRAN SHAHZADI By: KIRAN SHAHZADI, RAWAL PINDIDil Ik Banjar Zameen
Ki Tarah Heyoly Khata
Dekhai De Raha Hy
Jis Pe Na Khushi Ka Beej
Boya Ja Sakta Hy
Na Hi Ksi Izhar Ki
Takhlees Ki Ja Sakti Hy
Mohabat'' Chahat'' Kisi
Zumray Main Nahi Aati
Or Na Hi
Wafaa Ki Koi Umeed
Nazar Aati Hy
Aasman Khali Sa Dekhai Deta Hy
Sitaray Andhir Nagri Ky
Musafir Ho Jaty Hain
Shamein Kabhi Sohani
Nahi Rehtin
Raat Bhi Tanhai Ki
Gehri Saeton Main Khoo Jati Hy
Gulab Ki Pankhariyan Bhi
Khushbo Se Juda Juda Lagti Hain
Bahar Ka Mosum Bhi
Khzan Jaisa
Dekhai Deta Hy
Ashkon Ki Rawani Bhi
Gham Ko Kam Nahi Kr Sakti
Soch Zahen Ko
Mufloj Kr Deti Hy
Kuch Bhi Aankhon Ko
Nahi Bhata
Dil Ik Banjar Zameen
Ki Tarah Qun Ho Gia
Zara Samjha Do Mujhy
Haan Keh Do K
Banjar Zameen Pe
Kasht Kari Nahi Hoti
Phir Se Mohabat Nahi Hoti
Phir Se Dil Ko
Kisi Ki Chah Nahi Hoti
Nahi Hoti
Nahi Hoti
Nahi Hoti . . . . . .Naa
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






