Mujhe Usse Ab Bhi Mohabbat Hai
Poet: Shamsul "ShamS" By: Shamsul Hasan, New DelhiWafaa Wo Chodd Betha Hai
Bharosa Todd Betha Hai
Safar Viraan Kar Guzra
Mujhe Be-Jaan Kar Guzra
Dil-E-Nadaan Ko Lekin
Na Koi Usse Shikayat Hai
Mujhe Ab Bhi Usse Mohabbat Hai
Wo Saare Zakhm Mujh Tak Hai
Ashq-E-Bazm Mujh Tak Hai
Khushi Se Raabta Toota
Sabhi Se Waasta Toota
Magar Mujhe Usi Zalim Se
Ab Bhi Adawat Hai
Mujhe Ab Bhi Usse Mohabbat Hai
Sukoon-E-Chasmtari Gum
Wafa-E-Aabsaari Gum
Nighah-E-Bekarari Gum
Ishq-E-Adakari Gum
Usi Kamzarf Ki Khati
Jisse Mujhe Na Wafawat Hai
Mujhe Usse Ab Abhi Mohabbat Hai
Baharon Mai Khizaaein Hain
Hatheli Pe Duaaein Hain
Bhari Hai Ashkon Se Aankhein
Labon Pe Sadaaein Hain
Ye Bekal Dard Ki Basti
Usi Ki Mujh Pe Rehmat Hai
Mujhe Usse Ab Bhi Mohabbat Hai
Bashar Ab Ho Chuki Sahib
Guzar Ab Ho Chuki Sajib
Thikaano Se Safar Chuta
Mohabbat Mai Sanam Rutha
Wo Jo Dilgeer Tha Dil Ka
Use Mujhse Tijarat Hai
Mujhe Usse Ab Bhi Mohabbat Hai.
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






