Muhabat Kam Nahi Hoti, Tum Bhi Mere Nahi Hotay!
Poet: S. Sadia Amber Jilani. By: Syeda Sadia Amber Jilani., FaisalAbad.Punjab, Pakistan.Muhabat Kam Nahi Hoti Tum Bhi Mere Nahi Hotay
Ye Kaisay Zakham Hain Jo Kabhi Bharay Nahi Hotay
Ahsas-E-Judai Pay Tum Bhi Pighal Jatay
Chahat Mujh Say Hoti To Jazbay Thehray Nahi Hotay
Ik Kiyamat Uth Jati Haq Jo Ghareeb Ka Marta
Ahsas Bedaar Jo Hotay Log Behray Nahi Hotay
Tum Mere Hotay To Mera Saath Detay Tum
Jo Saath Detay Tum Hum Haray Nahi Hotay
Tum Jaisay Agar Mumkin Husslay Hotay Humaray Bhi
Tum Humaray Nahi Hotay Hum Tumharay Nahi Hotay
Aksir Rooh Pay Lagtay Hain Jo Ghao Apnay Detay Hain
Jo Gair Dy Jaen Woh Dard Gehray Nahi Hotay
Farz Muhabat K Ada Tum Bhi Kuch Kartay
Humaray Daman Mein Sunu! Itne Khasaray Nahi Hotay
Kail Zuwabat Ki Muhabat Bhi Kahen Hoti
Muhabat Ruswa Nahi Hoti Bewafa Piyaray Nahi Hotay
Tofaan-E-Doraa'n Mein Amber Main Kaha'n Hoti
Uss Ki Zaat K Mujhay Gar Saharay Nahi Hotay
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






