Main Aar Meri Awargi
Poet: By: Ahmed, MuzaffarabadPhertay Hain Kab Say Dar Badar
Ab Es Nagar Ab Os Nagar
Aik Dosray K Humsfar
Main Oar Meri "AWARGI"
NA Aashiyan He Rah Guzar
Na Mehrban He Aik Nazar
Jain Tu Ab Jain Kedhar
Main Oar Meri "AWARGI"
Hum B Kbi Azad Thay
Asay Kahan Barbad Thay
Beyfiker Thay Azad Thay
Masroor Thay Dilshad Thay
Wo Chaal Asi Chal Gya
Hum Bujh Gay Dil Jal Gya
Niklay Jala K Apan Ghar
Main Oar Meri "AWARGI"
Wo "MEHVISH" Wo "MEHRUKH" Wo
"MEHKMUL" Ho Baho
Ajab Thi Os Say Guftagoo
Pher Youn How Wo Kho Gei
Muj Ko Zid C Ho Gei
Lain Gay Os Ko Dhoond Kr
Main Oar Meri "AWARGI"
Ye Dil Tha Jo Seh Gya
Wo Baat Asi Keh Gya
Kehnay Ko Pher Kya Reh Gya
"Ashkoon" Ka Darya Beh Gya
Keh Kr Jub Wo Dilbar Gya
Taray Liay Main "MAR" Gya
Rootay Hain Os Ko Raat Bhar
Main Oar Meri "AWARGI"
Ab Ghum Uthain Kis Liay
"ANSOO" Bhain Kis Liay
Ye "DIL" Jlain Kis Liay
Youn "JAN" Gonwain Kis Liay
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






