Ma Jahan Rahun
Poet: M.N.M.Naeem By: M.N.M.Naeem, KarachiMain Jahaan Rahoon
Main Kahin Bhi Hoon
Teri Yaad Saaath Hai
Kisi Se Kahoon
Ke Nahi Kahoon
Yeh Jo Dil Ki Baat Hai
Kehne Ko Saath Apane Ek Duniya Chalti Hai
Per Chhupke Is Dil Mein Tanhaayi Palti Hai
Bas Yaad Saath Hai
Teri Yaad Saaath Hai
Kahin To Dil Mein Yaadon Ki
Ek Suli Gad Jaati Hai
Kahin Har Ek Tasveer Bhahut Hi Dhondhali Pad Jati Hai
Koi Nayi Duniya Ke Naye Rango Mein Khush Rehta Hai
Koi Sab Kuch Paake Bhi Yeh Mann Hi Mann Kehta Hai
Kehne Ko Saath Apane Ek Duniya Chalti Hai
Per Chhupke Is Dil Mein Tanhaayi Palti Hai
Bas Yaad Saath Hai
Teri Yaad Saaath Hai
Kahin To Beete Kal Ki Jadein
Dil Mein Hi Utar Jaati Hai
Kahin Jo Dhage Tute To Malaayen Bhikar Jaati
Koi Dil Mein Jagah Nayi, Baaton Ke Liye Rakhta Hai
Koi Apni Palko Par Yaadon Ke Diye Rakhta Hai
Kehne Ko Saath Apane Ek Duniya Chalti Hai
Per Chhupke Is Dil Mein Tanhaayi Palti Hai
Bas Yaad Saath Hai
Teri Yaad Saaath Hai
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






