Loat aao.....!!
Poet: By: Rimsha, WarminghamUsy Kehna
Kitabon Min Rakhy Sukhy Huy Kuch
Phool
Usky Loat Any Ka
Yaqen Ab Tak Dilaty
Han,
Usy Kehna
Uske Jheel Se Ankhein
Kse Manzar Pe Cha Jayen
To Sab Manzar Younhe
Phir Bheeg Jaty Han,
Usy Kehna
Kahthandi Barf Par
Koe Kse K Sath Chalta Ha
To Qadmon K Nishan
Phr Usy K Loat Aany
K Nishan
Dil Pe Banaty Han
Usy Kehna
Uske Bheege Ankhon
Kah Vo Anso
Sitary Ke Tarha Ab Bhe
Humien Shab Bhar Jagata Ha
Usy Kehna
Kah Barish Khirkion Pe
Usky Anso Paint Karte Ha
Use Ka Nam Likhte Ha
Usy He Gungante Ha
Usy Kehna
Khushbo,Chandni,Tary
Saba,Ghata,Kajal
Mohabat,Shabnam
Havaien,Raat Din
Badal
Sabhe Naraz Han Humsy
Usy Kehna
Judai K Dharkhton Par
Jo Sokhe Tahnian Hain
Wo Sari Barf Ke Chadar Min Kab Ke Dhak Chuke Han
Aur Un Shakhon Pe
Yadon K Jo Paty Thy
Wo Sunehri Hogay Han
Usy Kehna
December So Gaya Ha
Aur Wo Yakhbasta
Wo Bheega Januaray
Phir Loat Aya Ha
Usy Kehna Loat Ay
Usy Kehna Kah
Ab Loat Ay
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






