Kyun Dil Mera Todd Bethe Ho
Poet: Shamsul "ShamS" By: Shamsul Hasan, New DelhiTumhaara Kya Bigaada Tha Kyun Dil Mera Todd Bethe Ho
Tu Hi Mera Sahaara Tha Kyun Dil Mera Todd Bethe Ho
Faqat Itni Tamanna Thi Tumhe Humraah Karna Hai
Mohabbat Mai Ye Hi Aksar Mujhe Gunhaa Karna Hai
Haseen Apna Nazaara Tha Kyun Dil Mera Todd Bethe Ho
Tumhaara Kya Bigaara Tha Kyun Dil Mera Todd Bethe Ho
Alag Apna Safar Kar Ke Tumhe Hasil Hua Bhi Kya
Nazar Humse Badalkar Ke Tumhe Hasil Hua Bhi Kya
Ye Mera Dil Bechaara Tha Kyun Dil Mera Todd Bethe Ho
Tumhaara Kya Bigaada Tha Kyun Dil Mera Todd Bethe Ho
Huey Jo Khaab Chakna Choor Meri Aankhon Mai Chubhte Hain
Kabhi Paon Mai Chubhte Hain Kabhi Aahon Mai Chubhte Hain
Na Tere Bin Guzaara Tha Kyun Dil Mera Todd Bethe Ho
Tumhaara Kya Bigaada Tha Kyun Dil Mera Todd Bethe Ho
Musalsal Dard Hota Hai Tumhe Jab Yaad Karta Hoon
Khudaaya Mout Aa Jaaye Ye Hi Faryaad Karta Hoon
Tu Bas Mujhko Pyaara Tha Kyun Dil Mera Todd Bethe Ho
Tumhaara Kya Bigaada Tha Kyun Dil Mera Todd Bethe Ho.
Tumhaara Kya Bigaada Tha Kyun Dil Mera Todd Bethe Ho
Tu Hi Mera Sahaara Tha Kyun Dil Mera Todd Bethe Ho.
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






