Kon Kehta Hai Tujhay Bhoola
Poet: S. Sadia Amber Jilani By: Syeda Sadia Amber Jilani, FaisalAbad, Punjab, Pakistan.Kon Kehta Hai Tujhay Bhoola Dia Hum Nay
Such Yeh K Khud Ko Bhoola Dia Hum Nay
Thak K Behissi Ki Duniya Mein Bohat
Ahsaas Apna Bhi Sulaa Dia Hum Nay
Likha Thaa Lafaz Muhabt Bhi Kabhi
Ansoo Apnay Say Mitta Dia Hum Nay
Anaa Parsat Intaha Parsat Bhi Bohat Thay
Khud Ko Khud Hi Ganwa Dia Hum Nay
Rakhna Thaa Chupa K Jo Raaz Bhi Khud Say
Ankhon Say Sab Ko Suna Dia Hum Nay
Apna Banaa Len Tu Sadaa Saath Raho Gay?
Lo Khud Ko Bhi Tumhara Banaa Dia Hum Nay
Barrhti Zulmat Mein Apnay Hissay Ka Charaag
Bujh K Khud Bhi Jalaa Dia Hum Nay
Apni Zaat Mein Rakhtay Thay Ashqo'n Ka Tofa'n
Zabat Lazim Thaa So Chupa Dia Hum Nay
Kuch Naa Dikha Tu Fakat KHUDA Nazar Aya
Kuch Naa Sujha Tu Haath Phaila Dia Hum Nay
Muhabat Mein Wajib Hi Nahi Anaa Ka Huna
Haal Apna Tujhay Suna Dia Hum Nay
Woh Jo Rakhtay Thay Bohat Zabat Amber
Suna K Apni Unhen Rulaa Dia Hum Nay
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






