Koi Apna Na Ban Paya
Poet: Faaiz By: Ajmal Faaiz, KabirwalaBahut Dhonda Bahut Dekha Koi Apna Na Ban Paya
Jisy Apna Samag Bethy Usi Sy Hm Ny Gham Paya
Jisy Chaha Tha Hm Ny Is Bhari Dunya Sy Bi Barh Kr
Ajab Qismat Rahi Apni Na Ho Us Sy Milan Paya
Bazahir Khushnuma Kothi To Thi Purlutf-O-Pur Raunaq
Jb Andar Jhank Kr Dekha Wahan Khali Sehan Paya
Jo Sbza Zar Dikhta Tha Hamin Gulzar Dikhta Tha
Qareb A Kr Jo Dekha To Usy Ujrra Chaman Paya
Jo Un Sy Dor Thy Hm To Wo Ulfat Hm Sy Rakhty Thy
Mily Jb Un Sy To Nafrat Ka Drya Maujzan Paya
Rula Dena Hsa Dena, Hsa K Phir Rula Dena
Yahi Sb Ki Ada Pai Yahi Sb Ka Mishan Paya
Gily Shikvey To Krty Hen Wfa Koi Nahin Krta
Isi Raah Pe Sabi Logon Ko Hm Ny Gamzan Paya
Mahaz Muflis Jo Dikhty Thy Wohi Mukhlis Mily Hum Ko
Magar Daulat Jahan Par Thi Wahan Ikhlas Km Paya
Yahan Dunya Min Ay 'FaaiZ' Yahi Ik Bat Sach Pai
Wahin Hm Ny Wafa Pai Jahan Na Mal-O-Dhan Paya
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






