Koi Apna Na Ban Paya
Poet: Faaiz By: Ajmal Faaiz, KabirwalaBahut Dhonda Bahut Dekha Koi Apna Na Ban Paya
Jisy Apna Samag Bethy Usi Sy Hm Ny Gham Paya
Jisy Chaha Tha Hm Ny Is Bhari Dunya Sy Bi Barh Kr
Ajab Qismat Rahi Apni Na Ho Us Sy Milan Paya
Bazahir Khushnuma Kothi To Thi Purlutf-O-Pur Raunaq
Jb Andar Jhank Kr Dekha Wahan Khali Sehan Paya
Jo Sbza Zar Dikhta Tha Hamin Gulzar Dikhta Tha
Qareb A Kr Jo Dekha To Usy Ujrra Chaman Paya
Jo Un Sy Dor Thy Hm To Wo Ulfat Hm Sy Rakhty Thy
Mily Jb Un Sy To Nafrat Ka Drya Maujzan Paya
Rula Dena Hsa Dena, Hsa K Phir Rula Dena
Yahi Sb Ki Ada Pai Yahi Sb Ka Mishan Paya
Gily Shikvey To Krty Hen Wfa Koi Nahin Krta
Isi Raah Pe Sabi Logon Ko Hm Ny Gamzan Paya
Mahaz Muflis Jo Dikhty Thy Wohi Mukhlis Mily Hum Ko
Magar Daulat Jahan Par Thi Wahan Ikhlas Km Paya
Yahan Dunya Min Ay 'FaaiZ' Yahi Ik Bat Sach Pai
Wahin Hm Ny Wafa Pai Jahan Na Mal-O-Dhan Paya
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






