Ja Mohabbat Tujhe Alvida Kar Diya
Poet: Sahir Ali Bagga & Afshan Fawad By: Imran Raza, QuettaBech Khushiyan Khareed Laaye Ghum
Chor Kay Tum Ko Yaad Aaye Tum
Kya Mai Duniya Ka Karoon
Tu Jo Mera Naa Raha
Bhool Mein Fasila Kar Liya
Ja Mohabbat Tujhe Alvida Kar Diya
Ja Mohabbat Tujhe Alvida Kar Diya
Alvida Kar Diyaa
Wakh Kar Ke Aawan Bethi
Dunuya Sawan Tenu Murr Ke Leawan Kivay
Wakh Kar Ke Aawan Bethi
Dunuya Sawan Tenu Murr Ke Leawan Kivay
Bethi Akhiyan Kinary
Rondy Athroun Vichary Tanha Jivey
Bethi Akhiyan Kinary
Rondy Athroun Vichary Tanha Jivey
Dil E Nadaan Be Sabar
Hai Kar Aaya Khata Aisi
Pata Na Tha Judai Bhi
Hai Hoti Aik Saza Jesi
Wajaha Hogi Koyi Uski
Ke Dil Yuun Tood Aaye Hain
Ke Sab Apnon Ki Khatir Hum
Ikk Apna Choor Aaye Hain
Bhar Na Paaye Jo Kabhi
Zakham Gehra Hai Laga
Bhool Mein Faisla Kar Liya
Ja Mohabbat Tujhe Alvida Kar Diya
Ja Mohabbat Tujhe Alvida Kar Diya
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






