Hawa Thami Thi Zaror Lakin
Poet: By: Ali, islamabad Hawa Thami Thi Zaror Lakin
Wo Sham Jaisy Sisak Rahi Thi
K Zard Patton Ko Andhion Ne
Ajeeb Qisa Suna Dia Tha
K Jis Ko Sun Kar Tamam Pattay
Sisak Rahy Thay, Bilak Rahy Thay
Janay Kis Sanatay K Ghum Mai
Shajar Jaron Se Ukhar Chuke Thy
Bouth Talash Kia Hum Ne Tum Ko
Har Ek Rasta , Har Ek Wadi
Har Ek Parbat , Har Ek Ghati
Magar Kahin Se Teri Kabar Na Aie
Tu Yea Kah Kar Hum Ne Dil Ko Tala
Hawa Thamay Gi Tu Daik Lain Gay
Hum Uskay Raston Ko Dhoond Lain Gay
Magar Humari Yea Khush Khyali
Ju Hum Ko Barbad Kar Gai Thi
Hawa Thami Thi Zaror Lakin
Bari He Mudat Guzar Chuki Thi
Hamare Balon K Janglon Main
Safiad Chandi Uthar Chuki Thi
Falak Pe Taray Nahi Rahy Thy
Gulab Payare Nahi Rahy Thay
Wo Jin Sy Basti Thi Dil Ke Basti
Wo Loag Sary Nahi Rahy Thy
Magar Yea Almiya Tha Saab Sy Badtar
K Hum Tumhary Nahi Rahy Thay
K Tum Humary Nahi Rahy Thay
Hawa Thami Thi Zaror Lakin
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






