Hawa Thami Thi Zaroor Lekin
Poet: By: sumera ataria, GUDDUHawa Thami Thi Zaroor Lekin…Bari Hi Muddat Guzar Chuki Thi…
Who Shaam Bhi Jaise Sisak Rahi Thi …K Zard Patton Ko Aandhion Ne…
Ajeeb Qissa Suna Diya Tha…K Jisko Sun Kar Tamaam Patte…
Sisak Rahe Thay Bilak Rahe Thay…
Najane Kis “Saanhey” K Ghum Mein…Shajar Jarron Se Ukhar Chuke Thay…
Bohat Talasha Tha Hum Ne Tumko…
Har Ek Rasta…Har Ek Waadi…Har Ek Parbat…Har Ek Ghaati…
Kahein Se Teri Khabar Nahi Aayi…
To Keh Ke Yeh Hum Ne Dil Ko Taala…”Hawa Thame Gayi To Dekh Lein Gay”…
Hum Us Ke Raston Ko Dhond Lein Gay Mager Humari Ye “Khush Khyali”…
Jo Hum Ko Barbaad Kar Gayi Thi…Hawa Thami Thi Zaroor Lakin…
“Bari Hi Mudat Guzar Chuki Thi”…Humare Balon Ke Janglon Mein Safayd Chandni Utar Chuki Thi
Falk Pe Tare Nahi Rahe Thay…Gulab Pyaray Nahi Rahe Thay…
Wo Jin Se Basti Thi Dil Ki Basti…”Wo Log Saray Nahi Rahe Thay…
Magar Ye “Almiya” Sab Se Baala Tar Tha…
“K Hum Tumhare Nahi Rahe Thay”…
“K Tum Humare Nahi Rahe Thay”…
Hawa Thami Thi Zaroor Lekin…Bari Hi Muddat Guzar Chuki Thi
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






