Faslo'n K Ye H Silsalay Naa Tum Naa Him Mitta Sakay
Poet: S. Sadia amber jilani By: Syeda sadia amber jilani, Faisalabad, Punjab, Pakistan.Faslo'n K Yeh Silsalay Naa Tum Naa Hum Mitta Sakay
Hum Tum Tak Naa Pohanch Sakay Naa Tum Miyar Apnay Gira Sakay
Wakat Tha K Guzar Giya Lo Zakham Bhi Zara Sill Giya
Tera Naam Magar Sitam Gar Hum Aaj Tak Naa Bhola Sakay
Khakstar Meri Soch Ko Kar Gaiye Alaow Meri Rooh K
Mehsos Tu Bhi Karay Kabhi Kash Tu Bhi Khud Ko Jala Sakay
Teri Aadao'n Ki Nazar Sanam Jaan-O-Dill Jis Ka Hua
Uss Say Nazer Milla Kabhi Tujhay Haal Apna Parrha Sakay
Koi Dua Ho Aisi Meray Humnashee'n Koi Dawa Aisi Meray Tabeeb Bhi
Meray Rasto'n K Silsalay Jo Meri Manzalo'n Say Mila Sakay
Uss Muhabat Mein Urooj Kaha'n Uss Wafaa Mein Bhala Saror Kaha'n
Doob Kar Jis Mein Koi Naa Khud Ko Kabhi Ganwa Sakay
Aisa Amber Ahel-E-Zarf Koi Aur Sahb-E-Kirdar Kaha'n
Hum Say Ahel-E-Dil Say Jo Jaan-O-Jigar Say Nibha Sakay
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






