Ek Thee Pagal Se Larki
Poet: Fareeha By: Fareeha, hyderabadEk Thee Pagal Se Larki
Rehtee Thee Ghum Apni Soachoan Main
Ek Thee Pagal Se Larki
Soachtee Kuch Thee Boltee Kuch Thee Karti Kuch Thee
Woh Larki Bhee Kitni Pagal Se Larki Se Thee
Kuch Zindagi Se Kahafa Rehtee Thee
Kuch Apnae Ap Say Kahfa Rehtee Thee
Ek Thee Pagal Se Larki Kabhi Woh Peechay Morr Kar Daikhtee Thee
Toh Usko Sawaiye Udhas Honay Kay Kuch Nahi Milta Tha
Ek Thee Pagal Se Larki
Kuch La Parwa Se Kuch Ehssasat Se Bharpur
Ek Thee Pagal Se Larki
Dil Ki Baatain Apnae Aap Say Karnae Lagte Thee
Woh Larki Kitni Pagal Se Larki Thee
Ek Thee Pagal Se Larki Thee
Woh Larki Bhee Kitni Ajeeb Thee
Kabhi Bachoan Se Harkartain Karnae Lagtee Thee
Ek Thee Pagal Se Larki.
Ae Fareeha Tu Kitni Pagal Larki Hai
Tu Woh Soachtee Hai Jo Hoo Nahi Sakta
Tu Soachtee Hai Har Insan Sukoon Say Rehay
Yeh Hoo Nahi Sakta Hai Kyun Kay Insaan Koo Sukoon Rass Nahi Ata Hai
Aey Fareeha Tu Kitni Pagal Larki Hai
Aey Fareeha Tu Nahi Janti Zindagi Kitni Mushkeel Hai
Pal Pal Haalaat Se Samjhuta Karna Parta Hai Th Nahi Janti Hai
Woh Larki Yeh Nahi Janti Har Insaan Kay Naseeb Main Sukoon Nahi Hota Hai
Ek Thee Pagal Se Larki
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






