Ek Pagal Pagal Si Larki
Poet: Riz By: Rizwan Ahmed, LahoreEk Pagal Pagal Si Larki
Dil Toornay Se Darti Thi
Har Pal Har Lamha Khud Se Woh Jhagarti Thi
Ansoo Kiun Aye Kisi Ankh Main
Mujrim Khud Ko Samujhti Thi
Ghuut Ghuut K Jeeti Rehti Thi
Har Sans Ulajhti Rehti Thi
Soo Baar Kaha Aaay Nadan Larki
Dunya Ko Dekhna Choor Day
Khud Se Ulajhna Choor Day
Pal Pal Bikherna Choor Day.
Yahan Haassass Dil To Koi Nahi.
Yahan Nazuki Say Kaam Na Lay
Yahan Pather Banna Parta Hai
Yahan Rehumdilli Say Kaam Na Lay
Soo Barr Kaha Par Kaisay Nasamjhi
Dunya Ko Sub Samujhti Thi
Phir Wohi Hoa Jo Hona Tha
Dil Toota Uska Jiska Ussay Roona Tha
Bharosay Ki Deewar Girri
Sard Lehji Haar Baar Mili
Phir Simat Gaye Apni Zaat Main
Tamaam Dukhon Ko Samaitay Anchal Main
Ankhon Main Jazbaat Nahi
Pahlay Say Halaaat Nahi
Farq Srif Itna Hoa
Khud Apni Zaaat Ko Toor Dia
Tanhayeyoun Se Rishta Jorr Dia
Phir Tanha Tanha Rehni Lagi
Phir Khud Ko Pather Kahnay Lagi
Woh Ik Pagal Pagal Si Larki
Jo Dil Toornay Se Darti Thi
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






