DUA
Poet: Mrs.Haleemullah By: Mrs.Haleemullah, GhakharYa Khuda Kr Ata Apne Nabi(SAW)Kay Sadkay
Tere Siwa Koi Asra Nhai Hai
To Hi Malik Hai
To Hi Ata Krne Wala Hai
To Rehman Hai
Ro Rahim Hai
To Karim
Karam Kr Apne Nabi(SAW)Kay Sadkay
To Hi Seb Krne Wala Hai
Kainat Ka Zara Zara Teri Ijazt Ka Muhtaj Hai
Tere Hi Asara Hia Mere Mola
Tujh Se Hi Umeedain Hain
To Hi Bigri Bnanay Wala Hai
To Hi Seb Ka Data Hai
Sun Lay Fryad Meri Bhi
Tujhay Tere Nabi(SAW)Ka Wasta Hai
Tujhay Tere Nabi(SAW)Ka Wasta Hai
To Wah Da Hu Lashrik Hai
Teri Sifat Ya Latif Hai
To Ya Hayyu Ya Qayum Hai
To Zuljlale Wal Ikram Hai
To Rehman Hai
To Hi Malik Hai Sardar Hai
Tera Hi Name Sada Rehnay Wala Hai
Baki To Seb Fani Hai
Yeh Duni Ki Taklifain To Ani Jani Hain
Tujh Se Hi Mangtay Hoon
Tu Hi Day Ga
Tujh Pe Hi Yaqeen Hai
To Hi Ata Kray Ga
Ya Khuda Sun Lay Fryad
Tujhay Tere Nabi(SAW)Ka Wasta Hai
Tujhay Tere Nabi(SAW)Ka Wasta Hai
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






