December Ab K Aao To
Poet: By: rimsha, WarminghamDecember Ab K Aao To,
Tm Us Sher-E-Tamana Ki Khabar Lana,
K Jis Main Jagunyun Ki Kahkshain Jilmilati Hain,
Jahan Titli K Ranghun Se Fizain Muskurati Hain,
Wahan Charun Tarf Khushbu Wafa Ki Hai,
Or Us Ko B Porun Se Nazar Se Cho Gaya Pal Bhar,
Mahak Utha,
Jahan Pr Rait K Zare Sitare Hain,
Gul-O-Bulbal,Mah-O-Anjam Wafa I Istahare Hain,
Jahan Dil Wo Samandar Hai Kai Jis K Kinare Hain,
Jahan Qismat Ki Devi Muthion Main Jagmagati Hai,
Jahan Dharkan Ki Hr Leh Pr Behudi Nagme Sunati Hai,
December Hm Se NA Pocho Hamare Sher Ki Babat,
Yahan Aankhun Main Guzre Karwan Ki Gard Tehri Hai,
Mohhabat Barf Jaisi Hai Yahan,
Or Dhop K Khatiyun Main Ughti Hai,
Yahan Jazbun Ki Toti Chirchian Aankhun Main Chubti Hain,
Yahan Dil K Lahu Main Apni Palkun Ko Dabo Kr Hm Sunehre Khwab Bunte Hain,
Pir In Khwabyun Main Jete Hain Unhi Khwabyun Main Marte Hain,
Magr Pir B,
December Ab K Aao To,
Tm Us Sher-E-Tamana Ki Khabr Lana!!!
K Jis Main Jugnyun Ki Kehshian Jilmilati Hain,
Jahan Charun Tarf Fizain Muskurati Hain,
Wahan Charun Tarf Khushbu Wafa Ki Hai,
December Ab K Aao To....!!
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






