Ay Muhabbat K Musafir
Poet: By: Abdul Haq Bulledi, QuettaAy Muhabbat K Musafir Teri Manzil Kaheen Aur Hay
Thaher K Kya Mile Ga Is Shaher Main Wafa Nhi Wo Shaher Koi Aur Hay
Chala Ja Chala Ja (Bulledi) Yahan Se Toot Jao Gay Sheeshay Ki Tarha
Tu Jis Ko Pasand Krta Hay Wo Tera Apna Nhi Koi Aur Hay
Dil E Arzu Ne Humko Deewana Bana Diya
Roye Na Thay Kabhi Magar Tum Ne Rula Diya
Hum Ne Apko Har Lamha Yaad Kiya
Aur Aap Ne Yaad Kartay Kartay Zamana Laga Diya
Ay Khuda Aaj Ye Faisla Kar De
Ussay Mera Ya Mujhy Us Ka Kar De
Bahot Dukh Sahain Han Meny Koi Khushi Ab To Muqadar Kar De
Arsa Hua Judai Ko Ab Is Faslay Ko Kam Kar De
Nahi Likha Agar Naseeb Main Us Ka Naam
To Khatam Kar Ye Zindgi Aur Mujhy Fana Kar De
Kabhi Is Nagar Tujhy Dhoondhna Kabhi Us Nagar Tujhe Dhoondhna
Kabhi Raat Bhar Tujhe Sochna , Kabhi Raat Bhar Tujhy Dekhna
Mera Khuwab Tha K Khayal Tha
Wo Urooj Tha Ya Zawal Tha
Tu Na Tha To Ro Diya
Jo Tu Mil Gya To Tujhy Kho Diya
Mere Silsilay Bhi Ajeeb Hain
Tujhy Kho Kar Tujhy Dhoondhna Kabhi Is Nagar Kabhi Us Nagar
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






