ARZOO
Poet: RIDA AMANAT By: RIDA AMANAT, khanewalMe Kitni Duaoon’me Kitni Aahoon
Ki Manzaloon Ko Aboor Kr K
Phely Phely Se Rastoon Ki
Dorion Ko Dor Kr K
Tery Dar Pr
Aa Gaya Haoon
Bulandion Ko
Me Pa Gia Haoon
Me Chomta Hoon Dar Ki Chokhat
Zarry Zarry Se Ashna Hoon
Wajood Apna Snwarta Hoon
Ashq Apny Bkherta Hoon
Jo Tery Mdar Me Ghomta Hoon
Me Khud Me Khud Ko Hi Dhonta Hoon!
Me Hath Bandhy
Kharra Adab Se
Pas Rozy K
Mangta Hoon`Dekhta Hoon
Shahy Arz-O-Sma Ka Prda
Kesy Chala Ja Rha Hai Uthta
Nazr Me Sma Rha Hai
Chamkta Dmakta Sa’norani Chehra
Kuch Aisa Mehsoos Ho Rha Hai
Sokhy Se Phool Ko Koi Jesy
Aa K Khusbo Se Bhar Gia Hai
Ujry Ujry Chaman Ko Jesy
Hra Bhra Koi Kr Gia Hai
Me Mast Rahoon Pe Chal Pra Hoon
Me Un Ke Dar Pr Gira Pra Hoon
Mujy Zmana Sara’kabhi Nhi Ab
Utha Ske Ga’hila Ske Ga
Me Apni Rehti Hovi Zindagi Ko
Yaheen Pe Reh Kr Guzar Doon Ga
Snwar Loon Ga
Jidhar Jidhar Ko Nazrain Utha K Dekhoon
Husn-E-KHUDA Ko Dekhoon
Jmal-E-MUSTFA Ko Dekhoon
Yahaan Rehmtoon Ka Mela Laga Hova Hai
Bhar Rha Hai
Kashkol Sb Ka
Ik Aisa Data’k Jis Ki Shahi
Farsh Ta`Arsh Ho Rhi Hai
Diloon Ki Sadion Ki Tashngi Bhi
Bujha Rha Hai
Ik Aisa Saqi
K Jis Ki Rehmat Ka Aik Qatra
Diloon Pe Girta Hai Bn K Dria
Me Ab To Yahaan Pr Pra Hova Hoon
Magar !!
Ae Mery AQA!
Ye Meri Iltija
To Hi Mujhy Bta
K Sansein Jb Sath Chor Jaen
Dam Toor Jaein
Me Bad`Az Hiyat
Tujh Ko Pa Sakoon Ga!!
Me Umr-E-Rwaan Ka Safar Par Kr K
Kia Tery Dar Pe Phir Aa Sakoon Ga
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






