Alvida Azeezum
Poet: Arzoo Tahir By: Arzoo Tahir, RawalpindiSamandr Ko Chpr K Sahil Ki Tmna Kr Bethy
Kitny Masoom Thy K Dosti Mn Smjhota Kr Bethy
Mskn Ko Lot Ata H Ye Soch K Kiya Azaad,
Itbar E Hasil Mn Hm Apna Pnchi Gnwa Bethy
Musaft To Buht Thi Socha Kuch Aram Kr Lyn
Zulm To Ye Hoa Hujoom Mn Hm Qyam Kr Bethy
Hujoom E Gher Mn Ghul Mil Gy Jyse Ek Larhi K Moti
Isi Kashmkash Mn Hm Apna Hmsfr Kho Bethy
Tkhaiyal Mn B Gwara Na Tha Bicharna Jis Sy
Hkeekt Mn Hm Sy Juda Ho Bthy
Khtaee Hm Sy B Hoee Inkar Nhi Hm Ko
Na Gwar Ye Guzra K Wo Hmy Mujrim Hi Smj Bethy
Kbhi Fraght Mn Inaety B Threer Kry Gy Unki
Fil Wkt To Daire E Shikayat Hmy Gher Bthy
Sahil Nhi To Kya Sehra Hi Mnzoor H
Hm Hukm E Rabbi P Sr Ko Jhukae Bthy
Wo Jhan Kae Khushhali Hi Pae @Rzoo
Hm To Bs Khud Ko Khuda K Hwaly Kr Bethy
Alvida Azeezum K Qismt K Hn Ye Faisly
Buht Taveel H Sath Hmara, Isi Khushfhmi Mn Hm Zndgi Guzar Bethy
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص







