Adhoori Khwahishe
Poet: By: Nomi, karachiYe Chand Din Jo Aaye Hain
Phir Dukh Samait Laaye Hain
Meri Adhoori Khwahisho Ko
Peet Peet Kar Jagaaye Hain
Anjaane Lamho Se Pehchaan Chaahe
Bichhre Apno Se Mulakaat Chaahe
Dekhi Nahi Jo Raahe Kabhi
Un Raahon Par Apne Nishaan Chaahe
Ye Chand Din Jo Aaye Hain
Meri Adhoori Khwahisho Ko
Peet Peet Kar Jagaaye Hain
Ugta Suraj Dhalta Sa Lage
Behta Paani Jamta Sa Lage
Rukta Nahi Hai Samay Kabhi
Phir Bhi Ye Jeevan, Thamta Sa Lage
Taaro Se Roshni Jhilmilati Nahi
Baagho Mein Khushbu Lehraati Nahi
Prakrati Ne Khela, Khel Ye Kaisa
Saagar Mein Lehre Gungunaati Nahi
Ye Chand Din Jo Aaye Hain
Meri Adhoori Khwahisho Ko
Peet Peet Kar Jagaaye Hain
Anjaane Lamho Se Pehchaan Chaahe
Bichhre Apno Se Mulakaat Chaahe
Dekhi Nahi Jo Raahe Kabhi
Un Raahon Par Apne Nishaan Chaahe
Ye Chand Din Jo Aaye Hain
Phir Dukh Samait Laaye Hain
Meri Adhoori Khwahisho Ko
Peet Peet Kar Jagaaye Hain
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






