Achcha Nahi Hota
Poet: Fayaz Mohammed (Shakir) By: Fayaz Mohammed (Shakir), Mumbai-IndiaJo Zaahir Hota Hai Wo Baatin Nahi Hota
Har Hansta Hua Chehra Kabhi Khush Nahi Hota
Aansu Chalakte Hain Jab Kabhi Bhi Aankhon Se
Yu Dil Pe Laga Har Zakhm Achcha Nahi Hota
Gham Ke Samandar Se Khushyon Ke Motee kaise Paoge
Yu Saahil Per Baithe Intezaar Achcha Nahi Hota
Daaman Pasarey Baithe They Rishto’n Ki Dehleez per
Yu Faqat Apno Se Har Shai Ka sauda Achcha Nahi Hota
Parindo’n Mein Parwaaz Ki Talab Aksar Hoti Hai
Yu Mausam Be-mizaaj Ho To Udna Achcha Nahi Hota
Silwate’n Bhi Chubhti Hain Neend Ki Gehrayo’n Mein
Yu Be-matlab Raato’n Ko Jagana Achcha Nahi Hota
Nigaho’n Mein Faasle Hain Lekin Tasawur Mein Aapke Qareeb Hoon
Yu Pas-e-Parda Reh Kar Shikwa Karna Achcha Nahi Hota
Haathon Se Phisalti Rait Ke Zarro’n Mein sabaq Hota Hai
Yu Turbat Pe Baithe Aansu Bahana Achcha Nahi Hota
Andhere Mein Saath Chodh De, Wo Saaya Nahi
Yu Raato’n Mein Shakir Ko Aazmana Achcha Nahi Hota
Aayenge Laut Ke Ek Din Aap Hi Ke Dehleez Per
Yu Be-rukhi Se Tohmat Lagana Achcha Nahi Hota
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






