Aakhir Kyun Aisa Hota Hai
Poet: Zeeshan By: Zeeshan, karachiAakhir Kyun Aisa Hota Hai
Jise Mila Hai Apna Pyar
Vo Use Paa Kar Bhi Ek Din Khota Hai
Aur Jo Na Pa Saka Dil Ka Meet
Voh Tanhaai Me Aksar Rota Hai
Aakhir Kyun Aisa Hota Hai
Jis Pyar Ko Pane Ke Liye Dil Har Pal Tadapta Hai
Duniya Walon Ke Liye Vo Bus Ek Dhoka Hai
Jahan Me Insaano Ki Kami Nahi
Phir Unhe Pyar Se Kisne Roka Hai
Aakhir Kyun Aisa Hota Hai
Jinke Ek Deedar Ko Ye Dil Tarasta Hai
Jaane Ye Nazar Unhi Pe Kyu Theharti Hai
Jo Ek Pal Ka Bhi Saath Na De Sake
Dil Ko Unhi Ke Aane Ki Ummid Kyun Rehti Hai
Aakhir Kyun Aisa Hota Hai
Jise Kabhi Dekha He Na Ho Zindgi Ke Safar Me
Kabhi-Kabhi Sakhs Vahi Humsafar Hota Hai
Par Kese Samjhaye Is Bazaar Ka Dastoor Unko
Bik Gaya Jo Ek Baar Vo Kharid Daar Kaha Hota Hai
Aakhir Kyun Aisa Hota Hai
Bhulna Chahe Jise Dil Pal Bhar Ke Liye
Har Ghari Yaad Usi Ki Kyun Aati Hai
Humare Dil Me Rehne Wali Ye Dharkan Bhi
Unhi Ka Saath Kyun Nibhati Hai
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






