جھانک کر اپنا گریباں دیکھتا کوئی نہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاجھانک کر اپنا گریباں دیکھتا کوئی نہیں
کیا سہی ہے کیا غلط یہ سوچتا کوئی نہیں
بے وجہ قسمت کو اپنی کوستے رہتے ہیں لوگ
ہے سزا یہ کس خطا کی سوچتا کوئی نہیں
دوسروں کی خامیاں سب ڈھونتے رہتے ہیں کیوں
کیا کمی ہے خود کے اندر ڈھونڈتا کوئی نہیں
یہ تو سب نے کہہ دیا کے جو ہوا اچھا ہوا
کیا ہوا؟ کیسے ہوا ؟ یہ پوچھتا کوئی نہیں
ہر کوئی بیٹھا ہوا ہے اپنی اپنی تاک میں
آج کل دنیا میں لوگوں آٸنہ کوئی نہیں
اس زمانے میں ہو کوٸی بادشاہ یا کے فقیر
سچ ہے یہ غلطی کی اپنی مانتا کوئی نہیں
بات ہو جھوٹی اگر تو بولتے ہیں سیکڑوں
بات ہو سچی اگر تو بولتا کوئی نہیں
موت آنی ہے یقیناً جانتے ہیں سب مگر
پھر بھی صد افسوس آنکھیں کھولتا کوئی نہیں
ہم سے جب پوچھا گیا مجرم تمہارا کون ہے
بے جھجک منصف سے ہم نے کہہ دیا کوئی نہیں
زندگی کو اپنے ہاتھوں سے کیا ہم نے تباہ
ہم ہی دشمن ہیں خود اپنے دوسرا کوئی نہیں
بے وفاٸی کا میاں الزام تم دوگے کسے؟
سب یہاں پر با وفا ہیں بے وفا کوئی نہیں
لے کے آئی زندگی کس موڑ پر وشمہ ہمیں
بچ نکلنے کا جہاں سے راستہ کوئی نہیں
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






