“بجلی کے بدترین بحران سےپریشان حال عوام“
Poet: Haji Abul Barkat,poet By: Haji Abul Barkat,Poet/Columnist, Karachiکے ای ایس سی کا دن رات لوڈ شیڈنگ جاری ہے
جس سے کراچی شہر میں بجلی کا بد ترین بحران جاری ہے
یہاں کبھی بجلی ہوتی ہے تو کبھی وولٹیج نہیں ہوتا ہے
مگر پھر بھی بجلی کا فرضی اضافی بل جاری ہوتا ہے
ایک غریب شہری بغیر بجلی شدید پریشان ہوتا ہے
تو امیر طبقہ جنریٹر اور یوپی ایس استعمال کرتا ہے
اس پر ظلم یہ کہ ہر شہری گھریلو آلات جلا بیٹھتا ہے
پھر اس کی مرمت پر ہر ماہ کثیر رقم گنوا بیتھتا ہے
اب شہریوں کو کسی پل بھی سکون میسر نہیں ہے
کیونکہ یہاں دن رات اب بجلی موجود نہیں ہے
کے ای ایس سی کا دن رات لوڈ شیڈنگ جاری ہے
جس سے کراچی میں بجلی کا بد ترین بحران جاری ہے
نوٹ:-
بجلی کب اور کیسے واپس آئے گی یا شہریوں سے روٹھ جانے
کے بعد واپس ہی نہیں آئے گی ؟ اسے واپس منا کر لانے کے
لئے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر قدیر خان کے جدید ایٹمی فار مولے
پر عمل کرنے کی ضرورت ہے- جلد از جلد- شکریہ - خاکسار
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






