“ مَیں نامکمل“
Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahoreمیں صورتِ حال کبھی جی نہیں سکتی
حقیقت کا ذہر کبھی پی نہیں سکتی
طرزِ زندگی ہیں بس دو ہی میرے
رہے اِنہی میں سدا بسیرے
نئے خواب‘ پُرانی یادیں‘نئی آرزو‘ پُرانے غم
حاصلِ زندگی بہت کچھ ‘ بسے ہیں بس اِسی میں ہم
میں کرتی ہوں مجھ سے پیار بہت
ہوں محبت پہ مگر نثار بہت
چاہتی ہوں عشق بے پناہ میں
کہ ہوں جاؤں اُسی میں فناہ میں
قریبیء مسلسل مگر سہہ نہیں سکتی
جُدائی کا بھی کچھ کہہ نہیں سکتی
میں چاہتی ہوں ملاقات کبھی کبھی
ہو اُس میں برسات کبھی کبھی
مگر یہ دل ملنے کو ہر پل بے تاب ہے
تیرے سِوا نہ کچھ ہو ‘ یہ بھی خواب ہے
نجانے اِس میں کیا ہے حقیقت میری؟
ناساز ہے‘ ہے جو بھی چاہت میری
مل جائے مثال کاش تیرے نام کی
ورنہ زندگی بھی کیا‘بھلا کس کام کی
بِن تیرے رہنا نہیں چاہتی
اور بار بار یہ کہنا نہیں چاہتی
کھو جاتی ہے وہ بات ایسی باتوں میں
کہی جائیں گر سبھی ملاقاتوں میں
ہیں تو جواہرات یہ محبت کے مگر
نہ رہے گا احساس تیری سماعتوں میں
ملے گا مگر تُو کہاں مجھ کو
اُلجھنیں میسر ہیں اتنی جہاں مجھ کو
میں نے چھوڑ دی ہے اُمیدِ بے کار
نہیں لینی مجھے اب نیندِ بے قرار
رکھا تھا کسی صورت میں‘میں نے تجھ کو مگر
تُو جو آیا نہ اُس میں مجھ کو نظر
دے بیٹھی تھی دل ‘ دھوکا مل گیا
پھر اُس پہ زندگی سے اِک موقع مل گیا
زندگی نے جئیے رکھا مجھے
غمِ جگر دئیے رکھا مجھے
ہوئی نفرت مجھے اُس سے تیرے باعث
ہوئی عداوت مجھے اُس سے تیرے باعث
ہیں مگر آج بھی یادوں میں بے تابیاں محبت کی
یہ دل کہاں بھولتا ہے رنگینیاں محبت کی
وہ جب آیا کرتا تھا کبھی کبھی تُو اُس میں
بڑی دلچسپ ہوتی تھی محبت کی گُفتگو اُس میں
بنا وہ الم میرا حقیقت کُھلتے کُھلتے
رُخ بدل گیا وفا پہ تُلتے تُلتے
جب تُو لوٹ گیا ملاقات کر کے
وہ مُکر گیا زُباں سے بات کر کے
مگر میں چاہتی تھی ملاقات کبھی کبھی
شاید کہا تھا کہیں میں نے ابھی
میری پہلی ہی فرمائش قبول ہوئی
پھر مجھ ہی سے وہ فُضول ہوئی
نہ دل کو میرے تسکین ہوئی
نہ میں اِس پہ بھی مطمئن ہوئی
مگر میں چاہتی تھی کب ایسا
ہو گیا میرے ساتھ جیسا
میں نے کھایا ہے تیرا دھوکا اُس سے
جو تجھے میں نے سوچا اُس سے
میں چاہتی تھی تجھے تیرے ہی روپ میں
تُو ملا کبھی چھاؤں‘ کبھی دھوپ میں
یا بسیرا اُس میں مسلسل کیا ہوتا
یا روپ کو اپنے مکمل کیا ہوتا
دِکھایا ہوتا مجھ کو چہرہ خیالوں میں
میں ڈھونڈتی تجھے دن کے اُجالوں میں
مگر اب تجھ پہ بھی یقیں نہ رہا
میرے دل میں وہ پہلا مکیں نہ رہا
دھوکا تو‘تُو نے دیا ہے اُس میں آکے
ہر بار لوٹ گیا مجھے ستا کے
پا کے تجھے بھی کیا حاصل
رہا تو‘تُو ہی میرا قاتل
جاتا بھی تو نہیں قلب و دماغ سے تُو
ہے محبت کے خُفیہ سُراغ سے تُو
ہے تو مگر تُو کہیں
ہے من کو اتنا یقیں
یونہی تو خیالوں میں کوئی آتا نہیں
نہ ہو تو دل میں سماتا نہیں
نہیں دی خُدا نے عقل کو اتنی وُسعت
کہ جو ہوتا نہیں‘ کر لے اُس کی جرات
کہ وہ سوچ لے ‘ جو ہوتا نہیں کہیں
نہیں اتنی وسیع عقل کی زمیں
ہے تُو جس بھی دُنیا میں
بسا ہے میری ہی دُنیا میں
سوچتا ہے ضرور تُو بھی مجھ کو‘یونہی تو ستاتا نہیں
لگتا ہے تجھے بھی میرے سِوا کوئی اور بھاتا نہیں
اِسی لیے تو یہ دل تجھ پہ آنے سے جاتا نہیں
یہ اور بات ہے ‘ چہرہ تیرا سامنے آتا نہیں
تُو بھی ہے کسی دُنیا میں تڑپتا میرے لیے
لاحق جو درد مجھے‘ تُو بھی ہے رکھتا میرے لیے
کہیں تو ہے کوئی مجھ سا دیوانہ
معلوم ہوتا ہے ساتھ پُرانا
اصلیتِ جیون کچھ ہو نہ ہو
حقیقتِ آنگن کچھ ہو نہ ہو
حقیقتِ بے چیں میری“وہ دور کھڑی خوابوں کی دُنیا“
اصلیتِ مَیں میری“ وہ دور کھڑی خوابوں کی دُنیا“
میری آنکھوں میں پڑی مسلسل سی دُنیا
دوں نام تو ہے نامکمل سی دُنیا
پائی باعثِ تمنا‘ ہر سُو ہلچل
سبب بے سبب “ مَیں نا مکمل“
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






