تمہیں ہم یاد آئیں گے
Poet: Ayesha Arshad Khokhar By: Ayesha Arshad Khokhar, Satrah Sialkotمجھ کو محبت تم سے بے انتہا تھی جا ناں
میری ہرنماز میں تیری خوشی کی دعا تھی جاناں
تم کو چاہت نہ ہوئی میری چاہت سے ذرا بھی
بتاو پھر اس میں میری کیا خطا تھی جاناں؟
اب تم سے وابستہ سبھی لمحے بڑا ستا ئیں گے
ہمیں تم یاد آؤ گے تمہیں ہم یاد آئیں گے
چلو چھوڑ دیتے ہیں تمہیں بلانا اب
ختم کرتے ہیں تمہیں ستانا اب
بےزار ہو ہم سے یوں کہو نا
چھوڑ دو یہ کام کا بہانہ اب
اب نہ ہم کوئی خواب سجائیں گے
ہمیں تم یاد آؤ گے تمہیں ہم یاد آئیں گے
قسم لے لو تم سے بہت پیار کیا ہم نے
خود سے زیادو اعتبار کیا ہم نے
بہتے دریا کے سوکھ جانے تک
آخری قطرے تک انتظار کیا ہم نے
لواب ہم بہت دور چلے جائیں گے
ہمیں تم یاد آؤ گے تمہیں ہم یاد آئیں گے
ہماری ہزاروں باتیں بس باتیں رہ جائیں گی
گزر جاۓ گا یہ وقت بس یادیں رہ جائیں گی
تمہارے بن کچھ ہوں کٹ جاۓ گی زندگی
کہ روح تو نکل جاۓ گی بس سانسیں رہ جائیں گی
اور جب یاد آئیں گے یہ دن تو بہت رلائیں گے
ہمیں تم یاد آؤ گے تمہیں ہم یاد آئیں گے
کبھی تم سے بات کرنے کے بہانےڈھونڈتے تھے ہم
کبھی کوئی بات ہوتی کبھی بن بات روٹھتے تھے ہم
آج دیکھو اپنی د نیا سنسان بنا لی ہم نے
کبھی بولتے نہ تھکتے تھے اب چپ لگا لی ہم نے
تمہیں چھوڑ دینے کی قسم کھا لی ہم نے
مگر سوچتے ہیں دل کو کیسے سمجھائیں گے
ہمیں تم یاد آؤ گے تمہیں ہم یاد آئیں گے
تمہارے بعد بھی جاناں میری زندگی یہی ہو گی
بس آنکھوں میں نمی ہو گی کہیں کوئی کمی ہو گی
کوئی خلش بھی ہو گی کوئی حسرت رہی ہو گی
کوئی آہ چپھی ہو گی ہم پھر بھی مسکرائیں گے
ہمیں تم یاد آؤ گے تمہیں ہم یاد آئیں گے
اور کبھی جب ساون کی رت ہو گی
تمہیں بے چینی بہت ہو گی
دل میں کوئی کسک ہو گی
آنکھ میں آنسو کی جھلک ہو گی
اور سیدھی راہوں پے چلتے ہوۓ بھی
قدم جب یونہی ڈ گمگائیں گے
ہمیں تم یاد آؤ گے تمہیں ہم یاد آئیں گے
کبھی آ کر تو دیکھو تم میری خوشیاں کدھر گئیں ہیں
یہ سانسیں ٹھہر گئیں ہیں
کئی راتیں گزر گئیں ہیں
مگر یہ آنکھیں کہاں سوتی ہیں
تیری باتیں جب جب ہوتی ہیں
میری آنکھیں لہو روتی ہیں
تم نہ آؤ گے جاناں یہ آنسو سوکھ جائیں گے
ہمیں تم یاد آؤ گے تمہیں ہم یاد آئیں گے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






