ﺁﺝ ﭘﮭﺮ ﭘُﺮ ﻣﻼﻝ ﮨﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIﺁﺝ ﭘﮭﺮ ﭘُﺮ ﻣﻼﻝ ﮨﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺲ ﻏﻢ ﺳﮯ ﻻﻝ ﮨﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
ﭼﺎﮨﺘﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﺎﻓﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﺎ
ﮐﯿﻮﮞ ﺗﮭﮑﻦ ﺳﮯ ﻧﮉﮬﺎﻝ ﮨﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺳﮯ ﺗﻮ ﻣﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﮞ ﮐﺎ ﻭﺑﺎﻝ ﮨﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
ﻟﺐ ﻭ ﺭُﺥ ﻣﻈﮩﺮِ ﮐﻤﺎﻝِ ﺣُﺴﻦ
ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﮐﻤﺎﻝ ﮨﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
ﻋﺎﺭﺽ ﻭ ﻟﺐ ﮐﮯ ﻣﺮﻏﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ
ﺳﮩﻤﮯ ﺳﮩﻤﮯ ﻏﺰﺍﻝ ﮨﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻧﺮﻡ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ
ﮐﯿﺴﯽ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﻣﻘﺎﻝ ﮨﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
ﺩﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻧﮧ ﻋﺎﺻﻢ ﺁ ﺟﺎﻧﺎ
ﭘﮭﯿﻨﮑﺘﯽ ﺩﻝ ﭘﮧ ﺟﺎﻝ ﮨﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
More Sad Poetry
زمانے سے کنارا زمانے سے کنارا کر لیا میں نے
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
Kesar Khan
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL






