یا خدا بن جاؤں میں پتھر کی مورت کِس طرح
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKیا خدا بن جاؤں میں پتھر کی مورت کِس طرح
دِل پہ سہتی ہی رہوں میں ان کی نفرت کِس طرح
جو یہ کہتا تھا میں اس کی روح کا سکھ چین ہوں
ہوگئی اُس کے لئے میں بے ضرورت کِس طرح ؟
دوریاں بڑھتی ہی جائیں گی اگر ہر دِن یونہی
دور کر پاؤں گی میں ان کی کدورت کِس طرح ؟
ایک دو پل کی محبت کی یہاں فرصت نہیں
لوگ اِک دوجے سے کر لیتے ہیں نفرت کِس طرح ؟
تم ہماری زندگی کا ایک ہی ا ر ما ن ہو
دِل سے جانے کی تمہیں دے دیں اِجازت کِس طرح ؟
غیر بن کر جب مرے اپنوں نے آ نکھیں پھیر لیں
کیا کہوں ٹوٹی پھر اس دِل پر قیامت کِس طرح
چھوڑئیے کیا چاہتیں بھی بانٹنے کی چیز ہیں ؟
کوئی سہہ سکتا ہے چاہت میں شراکت کِس طرح
لوگ جو ہوتے ہیں سارے ایک کشتی کے سوار
ایک دوجے کو وہ کرتے ہیں ملامت کِس طرح ؟
میری آنکھوں سے جھلکتا غم انہی کی دین ہے
بھول جاؤں میں بھلا ان کی عنائیت کس طرح ؟
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






