یارسول اللہ ﷺ
Poet: Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi By: Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaonبحرِغم میں ہوا غرق میں سر بسر ، مصطفیٰ مصطفیٰ یارسولِ خدا
مجھ گنہگار پر ہو کرم کی نظر ، مصطفیٰ مصطفیٰ یارسولِ خدا
میںنے مانا خطاوں سے معمورہوں ، بادۂ جرم پی پی کے مخمور ہوں
ہے بھروسہ شفیع الوریٰ آپ پر ، مصطفیٰ مصطفیٰ یارسولِ خدا
فوجِ غم بڑھ رہی ہے اِدھر جوش پر ، دافعِ غم خدارا کرم کی نظر
طاقتِ صبر دیں وقت ہے پُر خطر ، مصطفیٰ مصطفیٰ یارسولِ خدا
حالِ دل کس کو جاکر سناوں شہا ، کوئی ہمدم نہ دمساز ہی ہے مرا
ماسوا آپ کے اے شہ بحرو بر ، مصطفیٰ مصطفیٰ یارسولِ خدا
کثرتِ جرم سے میں تباہ ہوگیا ، نامہ عصیاں سے میرا سیاہ ہوگیا
کر علاجِ گنہ اے مرے چارہ گر ، مصطفیٰ مصطفیٰ یارسولِ خدا
در پہ آیا ہوں میں چاک سیٖنہ لیے ، دل کا ٹوٹا ہوا آبگینہ لیے
دُور کردیجیے رنج وغم کا اثر ، مصطفیٰ مصطفیٰ یارسولِ خدا
خلق کے داد رس ، سب کے فریادرس ، بے بسوں کے ہیںبس بے کسوں کے ہیں کس
آپ خیرالوریٰ آپ خیرالبشر ، مصطفیٰ مصطفیٰ یارسولِ خدا
توہے فرماں روا ساری مخلوق کا ، دونوں عالم پہ چلتا ہے سکّہ ترا
میرا سویا مقدّر بھی بیدار کر ، مصطفیٰ مصطفیٰ یارسولِ خدا
عشق وعرفاں بھری زندگی بخشدیں ، قلب تاریک ہے روشنی بخشدیں
نُورِ ربُّ العلا، مالکِ خشک وتر ، مصطفیٰ مصطفیٰ یارسولِ خدا
صدق و عدل و صفا ، حلم و صبر و حیا ، خُلق و زُہد و ورع ، عجزدیں اور غنا
دور کردیں مُشاہدؔ سے ہر ایک شر ، مصطفیٰ مصطفیٰ یارسولِ خدا
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






