یاد

Poet: By: Rizwana Khan, karachi

جب یاد کا قصہ کھولوں تو کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
میں گزرے پل جو سوچوں تو کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں

اب جانے کونسی نگری میں آباد ہیں جاکر مدت سے
میں رات گئے تک جاگوں تو کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں

کچھ باتیں پھولوں جیسی تھیں کچھ لہجے خوشبو جیسے تھے
میں شہر چمن میں ٹہلوں تو کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں

وہ پل بھر کی ناراضگیاں اور مان بھی جانا پل بھر میں
اب خود سے جب بھی روٹھوں تو کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں

Rate it:
Views: 3683
01 Jan, 2010
More Sad Poetry