ہوئی خبر
Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usaہوئی خبر اب تم بات کیوں بڑھانا چاہتے ہو
برسات کی گہری راتوں میں بالوں کو کیوں چھٹکانا چاہتے ہو
آنگن میں لا کے بادلوں کو بجلی کیوں چمکانا چاہتے ہو
ہنس ہنس کے موتیوں کی قیمت کو کیوں گرانا چاہتے ہو
مسکراتے ہونٹوں سے پھولوں کو رقص میں کیوں لانا چاہتے ہو
چمکتے ماتھے سے چندا کو کیوں ڈگمگانا چاہتے ہو
قوس قزح کے رنگوں کو اپنی شوخی سے کیوں مٹانا چاہتے ہو
شب میں ہی اپنے سانسوں سے بادصبا کو کیوں جگانا چاہتے ہو
دھرتی پے قدم رکھ رکھ کر اس کا مان کیوں بڑھانا چاہتے ہو
بس اب ہم جان گئے پہچاں گئے کہہ تم اپنی نشیلی اداؤں سے
اس بچارے ارشد کا چھوٹا سا دل چرانا چاہتے ہو
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL







