ہاں ! مجھے ڈر لگ ربآ ہیں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaہاں ! مجھے ڈر
لگ ربآ ہیں
کہ کوئی
میری آنکھوں میں
تیرے لیے وہ چھپی
محبت نا دیکھ لیں
جو تیرا نام سنتے
ہی میرے چہرہ
خوشی سے کھل اٹھتا ہیں
جو میرے چہرے پے
لالی آ جاتی ہیں
کہیں ! کوئی میرا
چہرہ نا دیکھ لیں
ہاں ! مجھے ڈر
لگ ربآ ہیں
جو میری نظریں
ہر پل تیرا رستہ
دیکھتی ہیں
کہیں ! کوئی
میری نظروں میں
تیرا نتظار نا دیکھ لیں
ہاں ! مجھے ڈر
لگ ربآ ہے
کہ جب میں تجھے
سوچتی ہوں تو
کھو جاتی ہوں
تو کہیں کوئی
میری سوچوں میں
تیرا خیال نا دیکھ لیں
ہاں ! مجھے ڈر
لگ ربآ ہیں
کہ جب تو میرے
سامنے آتا ہیں
تو خوشی سے
میری آنکھیں
بھیگ جاتی ہیں
تو کہیں کوئی
میری آنکھوں کی
نمی نا دیکھ لیں
ہاں ! مجھے ڈر
لگ ربآ ہیں
کہ بھری محفل میں
تجھے بلاوں گئی کیسے ؟
کہ کہیں کوئی
ہمیں اس محفل میں
بات کرتے نا دیکھ لیں
ہاں ! مجھے ڈر
لگ ربآ ہیں
کہ کہیں مجھے
خاموش دیکھ کر
تیرا دل بدل نا جایئں
تیرے آنسو
نکل نا جایئں
کہ کہیں کوئی
تجھے میری وجہ سے
یوں اداس نا دیکھ لیں
ہاں ! مجھے ڈر
لگ ربآ ہیں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






