ہاتھوں پر زخم کیسے لگتے ہیں
Poet: Arooj Fatima ( Lucky ) By: AF (Lucky ), K.S.Aاب تو یاد بھی نہیں رہتا
ہاتھوں پر زخم کیسے لگتے ہیں
ہاں کبھی اک وقت ہوتا تھا
جب اک چوڑئی کے لگنے پر
میں گھنٹوں روتی رہتی تھی
سارا گھر سر پر ُاٹھاتی تھی
پھر تو میں کوئی کام بھی نا کر پاتی تھی
لیکن اس وقت میں
اور ُاس وقت میں
بہت سا فرق ہے جاناں
اب تو یاد بھی نہیں رہتا
ہاتھوں پر زخم کیسے لگتے ہیں
دیکھوں اب کٹے ہاتھوں سے
میں چب چاپ کام کرتی ہوں
کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی
فقط خاموشی اختیار کرتی ہوں
سچ پوچھو تو
اب تو درد بھی محسوس نہیں ہوتا
کیوں کے اس درد سے بڑھ کر
اک اور درد ہے میرے سینے میں
جس کی مقدار کئی زیادہ ہے
جو ایسا درد ہے جاناں
جو بظاہر کسی کو نظر نہیں آتا
مگر میری روح کو گھایل کرتا ہے
میرے خون سے بھرے
لہوں لوہاں ہاتھ دیکھ کر لوگ گبھراتے ہیں
مجھ سے سوال کرتے ہیں
کہ چوٹ کیسے لگی ہے
یہ خون کیسے نکلا ہے
مگر میں ُانہیں کیسے بتاوں
آخر کیا جواب دوں
اب تو یاد بھی نہیں
ہاتھوں پر زخم کیسے لگتے ہیں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






