گل عشق نہ توں پاویں
Poet: غلام حضور شاہ By: maqsood hasni, kasurعشق تکڑی وچہ پا کے کسے نئیں جے تولیا
مکھن پانیوں وی یارو کسے نئیں جے رولیا
جہڑا رمز نہ سمجھے سیانے اوہنوں کیہ کہن گے
گل عشق نہ توں پاویں دکھ سہنے پین گے
خانے عقلاں دے تیرے سارے گہنے پین گے
شبلی ماریا سی پہل منصور یار نوں
ذرا ترس نہ آیا میرے یار غار نوں
پہل ماریا توں مینوں طعنے سہنے پین گے
گل عشق نہ توں پاویں دکھ سہنے پین گے
خانے عقلاں دے تیرے سارے گہنے پین گے
یاری شبلی دی دساں تینوں کس تل دی
منصور کرلاوے درد سخت پہل دی
درد چہلیا نئیں جاندا روڑے سہنے پین گے
گل عشق نہ توں پاویں دکھ سہنے پین گے
خانے عقلاں دے تیرے سارے گہنے پین گے
سانوں ماریا بےصبری دل نہیں رجدے
کدے وسدے نئیں یارو جہڑے نت گجدے
شعر رمزاں۔۔۔۔۔والے سانوں کہنے پین گے
گل عشق نہ توں پاویں دکھ سہنے پین گے
خانے عقلاں دے تیرے سارے گہنے پین گے
گل عشق والی یارو کدے نئیں جے مکدی
رہندی مت نئیں ٹھکانے گڈی نئیں جے رکدی
پہاویں پچھ پورا ناواں سارے ٹھیک کہن گے
گل عشق نہ توں پاویں دکھ سہنے پین گے
خانے عقلاں دے تیرے سارے گہنے پین گے
ناگ عشق والا زہری جہنوں ڈنگ جاوندا
رہندا ہوش نہ ٹھکانے راہوں بھل جاوندا
راہ عشق والا ڈونگا اوکھے ساں لینے پین گے
گل عشق نہ توں پاویں دکھ سہنے پین گے
خانے عقلاں دے تیرے سارے گہنے پین گے
موت یاد نئیں کوئی تینوں کیوں پھریں بھلیا
چھڈ دے دنیا دا لالچ اجے کجھ نئیں جے ڈھلیا
جدوں جاویں گا توں اوتھے حساب دینے پین گے
گل عشق نہ توں پاویں دکھ سہنے پین گے
خانے عقلاں دے تیرے سارے گہنے پین گے
غلام حضور شاہ کرلاوے جند کیویں بچ دی
یاری رب نال لا کے ایہو پریت حق سچ دی
سارے کرن گے تعریفاں نالے نیک کہن گے
گل عشق نہ توں پاویں دکھ سہنے پین گے
خانے عقلاں دے تیرے سارے گہنے پین گے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






